LIVE
Loading Breaking News...

محسن نقوی کا پی ٹی آئی حکومت کے خیبر پختونخوا پولیس اور اسمبلی قانون پر ردعمل

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں ممبران اسمبلی کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی اجازت کو لازم قرار دینے والے قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اسے قانون کی مساوات کے منافی اور تحریک انصاف کے نعروں کے برعکس قرار دیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کے روز خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ممبرانِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) کی گرفتاری یا حراست سے قبل اسمبلی اسپیکر کی پیشگی اجازت لازمی قرار دینے کی کوشش پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں محسن نقوی نے کے پی اسمبلی سیکرٹریٹ کا وہ خط شیئر کیا جو صوبائی آئی جی کو لکھا گیا تھا، جس میں قانون کے سیکشن 11 پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ قانون صوبائی کابینہ کی جانب سے کے پی پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی مجرمانہ الزام میں ملوث ایم پی اے کو گرفتار کرنے سے پہلے پولیس کو اسپیکر سے اجازت لینا ہوگی۔ وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب خیبر پختونخوا میں اگر کوئی رکنِ اسمبلی کسی سنگین جرم میں بھی ملوث پایا جائے تو پولیس کو پہلے اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرنا ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خدانخواستہ کوئی ایم پی اے کسی قتل میں بھی ملوث ہو جائے تو کیا پولیس اسے گرفتار کرنے کے لیے اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں برابری کا یہ کیسا انوکھا اور عجیب و غریب تصور ہے، جسے تحریک انصاف ریاستِ مدینہ کا نام دیتی ہے۔ دوسری جانب کے پی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے آئی جی پولیس کو جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی رکن کو مجرمانہ الزام میں گرفتار کرنے یا ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حراست میں لینے سے پہلے مجسٹریٹ یا متعلقہ حکام کو لازمی طور پر اسپیکر سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔ سیکشن 11 کے تحت اسپیکر کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ عوامی مفاد کے پیش نظر پولیس رپورٹ یا چالان طلب کر کے حقائق کا جائزہ لے۔ یہ تازہ ترین سیاسی کشمکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کے پی پولیس ایکٹ اور صوبائی حکومت کے اقدامات پر پہلے ہی وفاق اور صوبے کے درمیان شدید گرما گرمی پائی جاتی ہے۔ وزارتِ داخلہ کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی قانون سازی سے صوبائی پولیس کا کمانڈ اسٹرکچر کمزور ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی فرنٹ لائن پر کھڑا ہے۔