World
بھارت میں ووٹر لسٹ تنازع، الیکشن کمیشن کی جانب سے سافٹ ویئر کا جائزہ
بھارت کے الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور لاکھوں ووٹرز کے اخراج کی خبروں کے بعد سافٹ ویئر کے جائزے کا حکم دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔
نئی دہلی: بھارت کے الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز اپنے ووٹر رول سافٹ ویئر کی جامع جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام ایک معروف اخبار کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمیشن کے نائب ارکان نے چیف الیکشن کمشنر سے ووٹر لسٹوں میں ہونے والی ان تبدیلیوں کے حوالے سے بازپرس کی ہے جن کے نتیجے میں مبینہ طور پر لاکھوں ووٹرز کو فہرستوں سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ملک کی اپوزیشن جماعتیں اور مختلف سیاسی حلقے مسلسل یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ ان فہرستوں میں اس انداز سے ردوبدل کیا گیا ہے جس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچ سکے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ادارے کے اندرونی امور میں اختلاف رائے ایک معمول کی بات ہے اور کمیشن کے تمام اقدامات مکمل طور پر قانون کے دائرے میں رہ کر کیے گئے ہیں۔ بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ کمیشن کے دو دیگر اراکین نے گزشتہ دس مہینے کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے سامنے کم از کم چودہ مرتبہ اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ تحفظات زیادہ تر اس اپڈیٹنگ کے عمل سے متعلق تھے جو گزشتہ سال سے شروع کیا گیا تھا۔ اس تمام صورتحال کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور کوکروچ جنتا پارٹی سمیت دیگر تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر ہفتے کے روز تک استعفیٰ نہ دیا گیا تو دو اکتوبر سے ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے شروع کیے جائیں گے۔ ان تمام دباؤ کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ ایک سینئر الیکشن عہدیدار کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں ایک آزاد ٹیکنالوجی ماہر بھی شامل ہوگا۔ یہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا استعمال ہونے والا سافٹ ویئر تمام انتخابی قوانین اور ضوابط کے عین مطابق ہے یا نہیں۔ کمیشن کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فہرستوں میں جن ووٹرز کے کوائف کے حوالے سے تضادات یا ابہام پایا گیا ہے، متعلقہ مقامی اہلکار خود ان کے گھروں کا دورہ کریں گے تاکہ انہیں روایتی طریقہ کار کے تحت حکومتی دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔