World
امریکہ اور چین کا تیس ارب ڈالر کے ٹیرف میں کمی اور اے آئی ڈائیلاگ پر اتفاق
بیجنگ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کے دوران امریکہ اور چین نے تیس ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ٹیرف میں کمی پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کسی بھی حادثے یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک باقاعدہ مواصلاتی چینل کھولنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
بیجنگ: چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں اقتصادی اور سیاسی حریف ممالک نے تیس ارب ڈالر مالیت کے درآمدی ٹیرف میں کمی پر اتفاق کر لیا ہے۔ بیجنگ کے حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اہم فیصلہ چینی صدر شی جن پنگ کے دورے اور اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران طے پایا، جس کا مقصد دونوں عالمی طاقتوں کے مابین جاری تجارتی تناؤ کو کم کرنا اور معاشی استحکام کو فروغ دینا ہے۔ اس تجارتی سیز فائر اور عارضی جنگ بندی سے دونوں ملکوں کو اپنی معیشتوں کو سنبھالنے کے لیے ایک بہتر موقع مل گیا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کے تجارتی نمائندے اور دیگر ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاک و ہند کے علاوہ اس عالمی معاملے پر تفصیلی تفصیلات جلد سامنے آ رہی ہیں، جن سے منڈیوں کو ایک مثبت سمت ملے گی۔ اس کے علاوہ مذاکرات میں صرف تجارتی امور پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ دونوں ممالک نے تکنیکی میدان میں تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔ واشنگتن اور بیجنگ کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں ممکنہ خطرات اور حادثات سے نمٹنے کے لیے ایک نیا حادثاتی رپورٹنگ چینل بھی قائم کیا جائے گا۔ اس چینل کے قیام کا مقصد اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال میں کسی بھی ناگوار واقعے یا حفاظتی خطرے کی صورت میں فوری طور پر معلومات کا تبادلہ کرنا اور باقاعدہ ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں پر پڑنے والا دباو کم ہوگا بلکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور تجارت کے میدان میں ایک مستحکم ماحول پیدا ہونے کی بھی امید کی جا رہی ہے۔