World
ٹرمپ نے ایران کی جنگ بندی کی پیشکش مسترد کر دی، وال اسٹریٹ جرنل کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری محاذ آرائی کے حوالے سے سفارتی کوششوں کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اس سے خطے میں جاری کشیدگی کے کم ہونے کے امکانات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ دونوںممالک کے درمیان جاری سفارتی تعطل کو مزید طول دے سکتا ہے۔دوسری جانب، خطے میں حوثی ملیشیا کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے، جنہیں سعودی اتحاد کی فضائی دفاعی فورسز کی طرف سے ناکام بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حوثی ملیشیا کی جانب سے فائر کیے جانے والے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ ان حملوں اور جوابی کارروائیوں نے خلیجی خطے کی سلامتی کو انتہائی حساس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ خطے کے مذہبی اور سیاسی رہنما بھی امن کی بحالی کے لیے بیانات جاری کر رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق کے پیش نظر فوری طور پر کسی بڑے امن معاہدے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ موقف امریکہ اور ایران کے مابین جاری محاذ آرائی کو مزید خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتا ہے، جہاں سفارت کاری کے دروازے بتدریج بند ہوتے جا رہے ہیں۔