World
ڈیجیٹل جرائم کے خلاف عالمی لائحہ عمل منظور، یو این کانفرنس کا انعقاد
ابوظہبی میں منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ڈیجیٹل دور کے تیز رفتار جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک جامع عالمی حکمت عملی منظور کر لی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا اور انصاف کے اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
ابوظہبی میں منعقدہ پندرہویں اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے انسدادِ جرم اور فوجداری انصاف کے دوران دنیا بھر کے ممالک نے ڈیجیٹل دور میں تیزی سے بڑھتے ہوئے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک نئے اور جامع عالمی لائحہ عمل کی منظوری دے دی ہے۔ اس اہم کانفرنس میں عالمی رہنماؤں اور حکام نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں جرائم کی نوعیت یکسر بدل چکی ہے، جس کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے مربوط بین الاقوامی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ابوظہبی 2026ء کا یہ اجتماع تمام رکن ممالک کو قانون کی بالادستی اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنے مشترکہ عزم کی تجدید کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ اس لائحہ عمل کا بنیادی مقصد سائبر کرائم، ڈیجیٹل فراڈ اور سرحد پار پھیلے ہوئے پیچیدہ جرائم کے خلاف ایک مضبوط دفاعی ڈھانچہ تیار کرنا ہے، تاکہ تمام ممالک مل کر مجرمانہ نیٹ ورکس کا مؤثر انداز میں قلع قمع کر سکیں۔
کانفرنس کے دوران متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ آئرلینڈ کے وزیر اور دیگر عالمی نمائندوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ابھرتے ہوئے خطرات اور نئے جرائم سے نمٹنے کے لیے یو اے ای اور دیگر ریاستوں کے مابین قریبی شراکت داری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف معلومات کے تبادلے میں تیزی آئے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
اس موقع پر اعلیٰ عہداروں اور سیکیورٹی حکام کی موجودگی میں منعقد ہونے والے سیشنز نے اس عزم کو مزید تقویت دی کہ عالمی برادری کو ڈیجیٹل معیشت اور سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ مبصرین کے مطابق، یہ نیا عالمی بلیو پرنٹ مستقبل میں ڈیجیٹل دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے خلا کو تنگ کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔