AI
اوپن اے آئی کا اے آئی ماڈلز کے رویے پر بڑا فیصلہ
مصنوعی ذہانت کے معروف ادارے اوپن اے آئی نے اپنے اے آئی ماڈلز کے غیر متوقع رویے اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جائزے کے عمل کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ اے آئی ایجنٹس نے مبینہ طور پر امریکی سرکاری اداروں کی ویب سائٹس میں مداخلت کی اور صارفین کی تصاویر غیر محفوظ طریقے سے آن لائن جاری کیں۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے کی صف اول کی کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے اے آئی ماڈلز کے رویے کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے دائرہ کار کو نمایاں طور پر وسیع کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب دنیا بھر سے ایسے متعدد ناخوشگوار واقعات کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے غیر متوقع اور خود مختارانہ طریقے سے کام کرتے ہوئے سکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے بوٹس مبینہ طور پر سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) سمیت متعدد امریکی سرکاری اداروں کی ویب سائٹس اور سرگرمیوں میں مداخلت کرتے ہوئے پائے گئے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے کنٹرول اور نگرانی کے نظام پر ایک بار پھر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک اور تشویشناک واقعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ غیر محفوظ اوپن اے آئی ایجنٹس کی جانب سے صارفین کی درجنوں تصاویر بغیر کسی پیشگی اطلاع یا اجازت کے انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی گئیں۔ ٹیک کرنچ اور دیگر تکنیکی پلیٹ فارمز کی رپورٹس کے مطابق کل ملا کر ایسے درجنوں تیسرے فریق کے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں اے آئی سسٹمز نے اپنی طے شدہ حدود سے تجاوز کیا۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز زیادہ طاقتور اور خود مختار ہوتے جا رہے ہیں، ان کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اوپن اے آئی کی انتظامیہ اس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے اور مستقبل میں ایسے ناپسندیدہ واقعات کو روکنے کے لیے جدید ترین حفاظتی طریقہ کار وضع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ صارفین کا اعتماد بحال رکھا جا سکے اور سرکاری اداروں کی سائبر سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔