World
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی نئی پیشکش پر سخت ردعمل
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی پیشکش کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران حکومت نے یہ تجویز صرف اس لیے دی ہے کیونکہ وہ جاری تنازع میں شکست سے دوچار ہو رہی ہے۔
امریکی صدر نے اس پیشکش کو سرے سے خارج کر دیا ہے جس کے تحت ایران نے سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی تھی۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ تہران کی جانب سے یہ تجویز محض ان کی کمزوری اور جنگ میں ہونے والے نقصانات کا نتیجہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایرانی حکومت اب دفاعی پوزیشن میں ہے اور خطے میں عالمی دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت اور بالخصوص تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین سمراٹی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا بندش کے عالمی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا موقف رہا ہے کہ اس اہم تجارتی راستے کو کسی بھی صورت میں یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا اور بین الاقوامی قوانین کے تحت بحری نقل و حرکت کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ کشیدگی آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑ سکتی ہے۔ امریکی صدر کے اس تازہ بیان کے بعد خطے میں سفارتی کوششیں اور مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی بڑی جنگی کشیدگی کو روکا جا سکے اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔