LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی افریقہ میں دسویں خاتون کی لاش برآمد، پولیس متحرک

News Image
جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے قریب ایک اور خاتون کی لاش برآمد ہونے کے بعد قتل ہونے والی خواتین کی تعداد دس ہو گئی ہے۔ پولیس اس ہولناک واقعے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے کیونکہ ملک میں خواتین کے خلاف تشدد اور قتل کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
جنوبی افریقہ میں پولیس نے جوہانسبرگ کے قریب سے ایک اور خاتون کی لاش برآمد کی ہے، جس کے بعد اس علاقے میں پراسرار طور پر قتل ہونے والی خواتین کی تعداد بڑھ کر دس ہو گئی ہے۔ یہ لرزہ خیز انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ ملک پہلے ہی خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم اور فیمسائڈ کی بلند ترین شرح کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تمام لاشیں ایک ہی علاقے کے آس پاس سے ملی ہیں جس سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے کسی ایک ہی فرد یا منظم گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس سنگین معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو تمام زاویوں سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، پولیس اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ تمام واقعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں یا نہیں۔ فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے ملنے والے فنگر پرنٹس اور دیگر سائنسی شواہد کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں تاکہ مقتولہ کی شناخت جلد از جلد کی جا سکے اور مجرموں تک پہنچا جا سکے۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں اس سلسلے میں کوئی بھی مشکوک سرگرمی یا اطلاع معلوم ہو تو فوراً قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں۔ حکام کا عزم ہے کہ اس لرزہ خیز سلسلے کو ہر صورت روکا جائے گا اور اس میں ملوث تمام مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ جنوبی افریقہ میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومت کو خواتین کے تحفظ کے لیے مزید سخت اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں پہلے ہی گھریلو تشدد اور خواتین کے خلاف جرائم کے خلاف ملک گیر آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں جوہانسبرگ کے قریب پیش آنے والے ان المناک واقعات نے ایک بار پھر قومی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ عوام اور سول سوسائٹی کا مطالبہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے۔