World
کیوبا کا اقوام متحدہ میں امریکہ پر معاشی جنگ اور انسانی مصائب کا الزام
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پاریلا نے اقوام متحدہ میں امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے کیوبن عوام کے خلاف معاشی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیوبا کے خلاف جاری غیر منصفانہ پابندیوں کا فوری نوٹس لے۔
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کیوبا اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پاریلا نے واشنگٹن پر شدید تنقید کے نشتر برسائے۔ انہوں نے عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر الزام عائد کیا کہ امریکہ کی جانب سے کیوبا کے خلاف ایک سوچی سمجھੀ معاشی جنگ لڑی جا رہی ہے جس کا واحد مقصد کیوبن عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنانا اور ملک میں دانستہ انسانی مصائب پیدا کرنا ہے۔ کیوبن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہائیوں پر محیط امریکی پابندیوں نے ملک کے معاشی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور عام شہریوں کو روزمرہ کی بنیادی ضروریات کی دستیابی میں بھی بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ برونو روڈریگز پاریلا نے اس بات پر زور دیا کہ ان ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے کیوبا کے شعبہ صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبے شدید متاثر ہوئے ہیں، جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لے اور امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ اس غیر قانونی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ دوسری جانب، اس الزام پر امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس کی پالیسیاں جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ہیں، تاہم کیوبا کی حکومت کی طرف سے مسلسل اسے ایک بڑی سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اقوام متحدہ میں کیوبا کی جانب سے یہ سخت بیان بازی دونوںممالک کے درمیان طویل عرصے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی کا باعث بنے گی۔ کیوبا کے اعلیٰ سفارتکار کے اس بیان کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی ادارے کے اندر یا دیگر ممالک کی جانب سے اس تنازع پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے، کیونکہ کیوبا کو درپیش معاشی بحران کے حل کے لیے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔