Technology
ٹرمپ کا امریکہ چین اے آئی اشتراک سے انکار اور اے آئی خدشات کو مسترد کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں کوششوں کو یکجا کرنے کی تجویز کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کو محض ایک فریب یا ڈھکوسلہ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں ایک اہم اور واضح مؤقف اپناتے ہوئے امریکہ اور چین کے درمیان مشترکہ کوششوں یا تعاون کی تمام تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں سپر پاورز کے مابین اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو ایک ساتھ جوڑنا کسی بھی صورت میں امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے اور اس حوالے سے امریکی خودمختاری کو برقرار رکھا جائے گا۔
اس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں عالمی سطح پر پائے جانے والے شدید خدشات اور خطرات کو بھی مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی تشویش اور خوف کی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں بلکہ یہ محض ایک فریب اور واویلا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اس جدید ٹیکنالوجی کو انسانیت کے لیے خطرناک سمجھنے کے بیانیے کو رد کرتے ہوئے اس کے مثبت استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت کے میدان میں طویل عرصے سے سخت مقابلہ جاری ہے۔ دونوں ممالک اس شعبے میں عالمی برتری حاصل کرنے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری اور تحقیق کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں دونوں فریقین کی کوششوں کو یکجا کرنے کا کوئی بھی امکان فی الحال خارج از امکان نظر آتا ہے، کیونکہ واشنگٹن بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک نوعیت کی ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرنے سے گریزاں ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دوڑ کو مزید تیز کر دے گا۔ اے آئی کے مستقبل اور اس کی ریگولیشن کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک میں بحث جاری ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے اس قسم کے سخت اور دوٹوک مؤقف کے بعد بین الاقوامی سطح پر ٹیکنلاجی پالیسیوں میں مزید پولرائزیشن دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے معاشی اور سائنسی اثرات عالمی مارکیٹ پر واضح طور پر ظاہر ہوں گے۔