LIVE
Loading Breaking News...

کیوبا کا امریکہ پر اجتماعی سزا کا الزام، ٹرمپ کا معاہدے کا دعویٰ

News Image
کیوبا کے وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کو اجتماعی سزا قرار دے کر شدید مذمت کی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے اقوام متحدہ میں دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا میں جلد آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔
کیوبا کے وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ملک پر عائد کی جانے والی سخت پابندیوں اور دباؤ کو 'اجتماعی سزا' قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگتن کی جانب سے کیوبا کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ اس سے عام کیوبن شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی امریکہ نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا کے عوام کے لیے جلد ہی آزادی کا دور آنے والا ہے۔ امریکہ اور کیوبا کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب سابق امریکی صدر اور موجودہ سیاسی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کیوبا کے ساتھ آئندہ دنوں میں کسی معاہدے پر بات چیت ہو سکتی ہے یا کوئی نیا سمجھوتہ طے پا سکتا ہے۔ ٹرمپ کی اس پیشگوئی نے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں تجزیہ کار یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا واشنگتن کی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے یا یہ محض سیاسی بیانات کا حصہ ہے۔ کیوبا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ امریکی پابندیوں نے ملک کی معیشت کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور جو کچھ بھی کیا جا رہا ہے وہ کیوبن قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ کیوبن حکام کا عزم ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ دوسری جانب عالمی برادری اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا آنے والے دنوں میں واشنگتن اور ہوانا کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے یا تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔