World
ایتھوپیا: فانو جنگجوؤں کا آرمی گاڑیاں اور ہتھیار قبضے میں لینے کا دعویٰ
ایتھوپیا کے علاقے امہارا میں سرگرم مسلح فانو تحریک کے جنگجوؤں نے فوجی ٹرک اور بھاری ہتھیار قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس تازہ واقعے سے خطے میں جاری سکیورٹی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایتھوپیا کے خطے امہارا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، فانو تحریک سے وابستہ مسلح جنگجوؤں نے سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے متعدد فوجی ٹرک اور ہتھیار کامیابی کے ساتھ اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں حکومتی فورسز اور علاقائی ملیشیاؤں کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
فانو جنگجوؤں کی جانب سے عسکری سازوسامان اور گاڑیوں پر قبضہ کرنے کی اس کارروائی کو مقامی سطح پر ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس واقعے سے امہارا کے مختلف حصوں میں سکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، کیونکہ فانو تحریک ایتھوپیا کی مرکزی حکومت اور علاقائی انتظامیہ کے خلاف مسلسل مسلح مزاحمت کر رہی ہے۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں فانو جنگجوؤں کی نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب، ایتھوپیا کی حکومت اور عسکری حکام نے فانو ملیشیا کے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ یا تردید جاری نہیں کی ہے۔ تاہم، مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ملک کے اندرونی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں اور امہارا کے عوام پہلے ہی اس طویل تنازعے کے منفی اثرات کا شکار ہیں۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی فانو تحریک اور سرکاری فورسز کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے پرامن حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔