Business
اسٹیل ٹیکس بجلی کی کھپت سے مشروط، ایف بی آر کی نئی پالیسی
وفاقی ادارہ جاتی ریونیو (ایف بی آر) نے اسٹیل میلٹرز کے لیے سیلز ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے اسے بجلی کی کھپت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر نے اسٹیل مینوفیکچررز کو رضاکارانہ شمولیت کی ڈیڈ لائن میں توسیع اور واجب الادا ریفنڈز کی جلد ادائیگی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
اسلام آباد (نیکسا نیوز اردو) وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے ملک کے اسٹیل سیکٹر کے لیے ٹیکس وصولی کے نظام میں ایک اہم اور بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اب اسٹیل میلٹرز کو سیلز ٹیکس کی ادائیگی ان کی جانب سے استعمال کی جانے والی بجلی کی کھپت کی بنیاد پر کرنی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس کے نظام کو زیادہ شفاف بنانا اور محصولات کی وصولی کے عمل کو بہتر بنانا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی ٹیکس چوری کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے اسٹیل انڈسٹری کے کاروباری طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
دوسری جانب، کاروباری برادری کے مطالبات پر غور کرتے ہوئے ایف بی آر نے لوہا اور اسٹیل تیار کرنے والے مینوفیکچررز کے لیے رضاکارانہ شمولیت کی ڈیڈ لائن میں بھی توسیع کر دی ہے۔ اس توسیع سے صنعت کاروں کو اپنے امور کو نئے قوانین کے مطابق ڈھالنے کے لیے مزید وقت مل جائے گا، جس سے وہ ڈیجیٹل کمپلائنس اور قانونی تقاضوں کو آسانی سے پورا کر سکیں گے۔ اس فیصلے کو صنعت سے وابستہ افراد کی طرف سے مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے ڈیڈ لائن میں توسیع کا مطالبہ کر رہے تھے۔
اس کے علاوہ، ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے اسٹیل سیکٹر کے نمائندگان کو یقین دلایا ہے کہ ان کے طویل عرصے سے التواء کا شکار ریفنڈز کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جائے گا۔ اسٹیل انڈسٹری کو کیش فلو کے مسائل کا سامنا تھا اور ریفنڈز کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں۔ ایف بی آر کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائے جانے کے بعد کہ ڈیجیٹل کمپلائنس کے عمل کو آسان بنایا جائے گا اور واجب الادا رقوم جلد جاری ہوں گی، کاروباری حلقوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے ملکی معیشت میں صنعتی پہیہ مزید تیزی سے گھومے گا۔