LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں خواتین کا جنسی تشدد کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز

News Image
مشرقی کانگو میں جاری جنگ اور جنسی تشدد کے لرزہ خیز واقعات کے بعد خواتین نے خود دفاع کے لیے حکومت حامی ویزالینڈو فائٹرز میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں خواتین اپنے تحفظ اور بقا کی جنگ لڑنے کے لیے عسکری راستے پر گامزن ہیں۔
جمہوری جمہوریہ کانگو کے مشرقی حصوں میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی اور بدترین انسانی بحران کے دوران اب ایک انتہائی تشویشناک لیکن دلیرانہ موڑ سامنے آیا ہے۔ خطے میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد اور جنگی جرائم کے خلاف اب مقامی خواتین نے خاموش رہنے کے بجائے خود دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ خواتین اب باضابطہ طور پر حکومت حامی مسلح گروپ ویزالینڈو فائٹرز میں شامل ہو رہی ہیں تاکہ اپنے علاقوں کا دفاع کر سکیں اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ مشرقی کانگو کا یہ خطہ گزشتہ کئی سالوں سے مختلف مسلح گروہوں کے درمیان طاقت کی کشمکش کا شکار ہے، جہاں عام شہریوں بالخصوص خواتین کو جنگی حربے کے طور پر انتہائی بدترین جنسی تشدد اور مظالم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مبصرین مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے آئے ہیں کہ سرکاری فورسز اور امن مشنز کی ناکامی کے بعد مقامی آبادی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔ ان مشکل حالات میں جب ریاست شہریوں کو تحفظ دینے سے قاصر نظر آئی تو خواتین نے روایتی سماجی کردار سے باہر نکل کر فرنٹ لائن پر لڑنے کا مشکل فیصلہ کیا۔ ویزالینڈو فائٹرز میں شمولیت اختیار کرنے والی ان خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنے اعزاز، جان اور مال کی حفاظت کے لیے مسلح مزاحمت کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں بچا تھا۔ وہ اب جنگ کے محاذ پر مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر اپنے دفاع کی تربیت لے رہی ہیں اور عسکری کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خواتین کا اس طرح ہتھیار اٹھانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے میں ریاستی رٹ کتنی کمزور ہو چکی ہے اور وہاں کے عوام کتنی بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تاہم دوسری جانب، اس پیش رفت نے تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور انسانی حقوق کے اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے خطے میں عسکریت پسندی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت اور بین الاقوامی برادری پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں، سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنائیں اور جنگ زدہ علاقوں کے باسیوں بالخصوص خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔