LIVE
Loading Breaking News...

روسی اور یوکرینی حملے، کم از کم 10 افراد جاں بحق

News Image
روس اور یوکرین کے درمیان جاری شدید حملوں میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران روسی وزیر خارجہ نے یورپ پر امن مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، اور تازہ ترین فضائی و زمینی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے علاقوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کی وجہ سے خطے میں انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے اور عام شہریوں کی اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تازہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے سفارتی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اسی دوران، روسی وزیر خارجہ نے مغربی ممالک بالخصوص یورپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یورپی دارالحکومت روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق، مغربی ممالک امن قائم کرنے کے بجائے جنگ کو طوالت دینے میں مصروف ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھا جا سکے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ یورپ کی جانب سے یوکرین کو مسلسل عسکری اور مالی امداد فراہم کرنا دراصل مذاکرات کی میز پر آنے سے گریز کرنے کی ایک دانستہ حکمت عملی ہے۔ دوسری جانب، یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی روس کے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماسکو خود جارحیت کا ذمہ دار ہے اور امن اسی صورت میں ممکن ہے جب روسی افواج یوکرین کے تمام مقبوضہ علاقوں سے انخلا کریں۔ جنگ کے اس طویل تسلسل نے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی خوراک اور توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ نے ایک بار پھر تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی طرف لوٹنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔