World
اقوام متحدہ اجلاس: فلسطین پر اسرائیلی تشدد کیخلاف عالمی مذمت
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پانچویں روز بھی دنیا بھر کے رہنماؤں نے فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود خطے میں کشیدگی اور پرتشدد کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اعلیٰ سطح کا اجلاس اپنے پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے، جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے سربراہان مملکت اور سفارت کاروں کی توجہ کا اہم ترین مرکز مشرق وسطیٰ کی ابتر صورتحال ہے۔ اجلاس کے دوران دنیا بھر کے رہنماؤں نے فلسطینی علاقوں میں جاری اسرائیلی تشدد اور بربریت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مقررین کا کہنا ہے کہ معاقب فلسطینی شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نے انسانی حقوق کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور عالمی برادری کو اس معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے عملی قدم اٹھانا چاہئے۔
ذرائع کے مطابق، اقوام متحدہ کے اس اہم فورم پر خطاب کرتے ہوئے متعدد ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرینہ تنازعے کا حل صرف اور صرف دو ریاستی حل میں مضمر ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس انتہائی خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اجلاس کے ایک اور سیشن میں انسانی امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی، کیونکہ محاصرہ زدہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور پانی کی قلت شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس سے ایک بڑا انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا بھر کے ایوانوں میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے، تاہم عملاً زمین پر تشدد کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ سیز فائر اور پرامن مذاکرات کی تمام تر کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے خطے کے عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی ادارے اس بحران کو تھامنے میں تاحال ناکافی ثابت ہوئے ہیں، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ جنرل اسمبلی کے اس سیشن کے اختتام پر کوئی مؤثر اور بائنڈنگ قرارداد سامنے آتی ہے یا نہیں۔
عالمی سطح پر سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس اجلاس سے وابستہ امیدوں کے ساتھ مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے پر مجبور کریں۔ فلسطین میں جاری اس خونریزی کے خاتمے کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کی ضرورت ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔