World
جرمنی میں فوجی بھرتی کے قوانین کیخلاف طلباء کا احتجاج
برلن کی سڑکوں پر چالیس ہزار سے زائد طلبا نے جرمن حکومت کے لازمی فوجی سروس کے منصوبے کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نوجوان نسل کی تعلیم اور کیریئر کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
برلن کے مرکزی علاقوں میں اس وقت شدید گہما گہما دیکھنے میں آئی جب چالیس ہزار سے زائد طلبا و طالبات نے جرمن حکومت کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے نئے فوجی سروس کے منصوبے کے خلاف سڑکوں کا رخ کیا۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کا بنیادی مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ اس متنازع فیصلے کو روکا جا سکے، جس کے تحت ملک میں ایک بار پھر لازمی فوجی سروس نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، جن کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے ملک کے نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔
اس احتجاجی ریلی میں شرکت کرنے والے طلبا تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ حکومت کو نوجوانوں کی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور ذاتی آزادی کو ترجیح دینی چاہیے نہ کہ انہیں جبری طور پر فوجی تربیت یا خدمات کے لیے مجبور کرنا چاہیے۔ مظاہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں ملک کو عسکری لحاظ سے مضبوط کرنا اہم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے نوجوان نسل کو قربانی کا بکرا بنانا قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔ اس احتجاج میں نہ صرف یونیورسٹیوں بلکہ کالجوں اور اسکولوں کے طلبا نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی، جس نے دارالحکومت کے نظام کو وقتی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق برلن میں ہونے والا یہ احتجاج جرمن حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے فی الحال اس صورتحال پر انتہائی محتاط ردعمل سامنے آیا ہے اور حکام کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا کوئی پرامن حل نکالا جائے۔ دوسری جانب طلبا تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ جب تک حکومت اس مجوزہ قانون کو مکمل طور پر واپس نہیں لیتی، ان کا احتجاج مختلف شکلوں میں جاری رہے گا۔ اس تحریک کے ملک کے دیگر بڑے شہروں تک پھیلنے کے بھی امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے حکمران اتحاد کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔