Politics
اسحاق ڈار کا ای سی او اجلاس میں خطے کی سلامتی اور معاشی تعاون پر زور
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ سلامتی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن اور بین الاقوامی قانون کے مطابق مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے پُرعزم ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کونسل آف منسٹرز کے 27ویں غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت تنازعات کے پرامن اور مذاکراتی حل کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت کی سنجیدگی اور لگن نے برادر ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر پرامن نتائج حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور اس پیشرفت کو اب محفوظ اور مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ای سی او کے رکن ممالک کو تقریبا نصف ارب آبادی کی فلاح و بہبود، امن اور اجتماعی ترقی کے لیے اپنی مشترکہ طاقت کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے۔
اجلاس کے دوران اسحاق ڈار نے نشاندہی کی کہ خطہ اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے جہاں اسے ایک طرف بڑے چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری طرف بے مثال معاشی مواقع بھی میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پانی اور خوراک کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن رہی ہے، جبکہ ابھرتے ہوئے مواصلاتی کوریڈورز وسطی اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ای سی او میں ادارہ جاتی اصلاحات اور سیاسی عزم کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ ابھرتے ہوئے معاشی اور سیاسی حقائق سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہوا جا سکے۔ پاکستان، جو کہ 2026-27 کے لیے ای سی او کونسل آف منسٹرز کی صدارت سنبھال رہا ہے، تجارت، معاشی انضمام، مواصلات، ٹرانزٹ اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرے گا۔
افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے افغانستان میں استحکام ناگزیر ہے، تاہم افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اس مقصد کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ایک پرامن، مستحکم اور خود کفیل افغانستان کا خواہاں رہا ہے جو اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی طالبان حکومت سے صرف یہ توقع ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بی ایل اور اور ان کے حواریوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے جو پاکستان کی خودمختاری اور شہریوں کی زندگیوں کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
آخر میں، اسحاق ڈار نے یروشلم کے حوالے سے جوائنٹ عرب لیگ اور اسلامی ممالک کے گروپ فور کے وزارتی اجلاس میں بھی شرکت کی، جو کہ اردن کی دعوت پر منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ای سی او کو علاقائی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم سمجھتا ہے اور پاکستان اس تنظیم کے ذریعے ایشیا میں مشترکہ خوشحالی، باہمی رابطوں اور گہرے معاشی تعاون کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے ای سی او کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اسحاق مجید خان اور سیکرٹریٹ کی کاوشوں کو بھی سراہا۔