World
ٹرمپ کا ایران کی امن مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش پر ردعمل
امریکہ کے نومنتخب یا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امن مذاکرات شروع کرنے کی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اس پیشرفت سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، امریکہ کے اہم ترین سیاسی اور سفارتی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک اہم تجویز کو مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر یہ پیشکش کی گئی تھی کہ سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور امن مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع کیا جائے گا، تاہم امریکی قیادت نے اس پر منفی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی نئی مراعات دینے کا ارادہ نہیں رکھتا، جس کے بعد مذاکرات کی راہ مزید مشکل ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا بالخصوص وال اسٹریٹ جارج اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق، امریکی حلقوں میں یہ توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ وسط مدت کے انتخابات کے بعد تناؤ میں مزید شدت آ سکتی ہے اور ممکنہ طور پر فضائی کارروائیوں کا نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اور اس کے بند رہنے یا کشیدگی کی وجہ سے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عالمی رہنما خطے میں امن کی بحالی کے لیے فریقین پر زور دے رہے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ڈیڈلاک برقرار ہے اور کسی بھی فوری مفاہمت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔