Politics
وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں تاریخی خطاب اور تجزیہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور پانی کے حقوق پر دوٹوک مؤقف اپنایا۔ تجزیہ کاروں نے ان کے اس طاقتور اور جامع خطاب کو پاکستان کے بیانیے کی بہترین ترجمانی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اس کی بھرپور ستائش کی ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں نہ صرف پاکستان کا مؤقف انتہائی موثر انداز میں دنیا کے سامنے رکھا بلکہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر امور کی طرف بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے پانی کی طرف کسی بھی قسم کی کوشش کو جنگی کارروائی سمجھا جائے گا اور بھارت کو اس حوالے سے کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔
اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے بھارت کی طرف سے لگائے جانے والے بے بنیاد دہشت گردی کے الزامات کا بھی منہ توڑ جواب دیا اور اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان کے خلاف جاری پروپیگنڈے کا پردہ چاک کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے اور ملک نے اس لعنت کے خاتمے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ خطے میں بھارتی جارحیت اور ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے جو جنوبی ایشیا کے امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی معیشت اور بحری گزرگاہوں کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہرمز اور باب المندب جیسے اہم اسٹریٹجک مقامات کو عالمی معیشت کی رگیں قرار دیا جا سکتا ہے اور تجارت کے تسلسل کے لیے ان کا کھلا رہنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی تنازعات کے پرامن حل اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی فراہمی کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد پر بھی زور دیا۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزیراعظم کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کو متعدد معاشی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے۔ پاکستان کے مؤقف کو اس فورم پر جس جرأت اور استقامت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، اس سے عالمی سطح پر ملک کی سفارتی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ تمام سیاسی حلقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفادات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر عالمی پلیٹ فارم پر اپنے حقوق کی بھرپور جنگ لڑتا رہے گا۔