World
ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش دھماکہ، 12 افراد جاں بحق
پاکستان کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چیک پوسٹ کے قریب ایک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس دلخراش واقعے نے خطے میں سکیورٹی کی صورتحال اور بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ خطرات پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شدید خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ خودکش حملہ ایک پولیس چیک پوسٹ اور اس کے قریب واقع علاقے کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس سے اردگرد کی عمارتوں اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور دھماکے کی نوعیت کے بارے میں فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ ملکی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس حملے نے ایک بار پھر پاک افغانستان تعلقات اور خطے میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندی کے رجحانات کو اجاگر کر دیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکومتی عہدیداروں اور سیاسی رہنماؤں نے اس بزدلانہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔