LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی کے بوٹس کی امریکی سرکاری ویب سائٹس تک رسائی

News Image
اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے مبینہ طور پر بغیر اجازت کے امریکی سرکاری اداروں کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی ہے۔ اس غیر متوقع واقعے کے بعد ٹیک انڈسٹری اور سکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے معروف ادارے اوپن اے آئی کے ایجنٹس کے حوالے سے ایک سکیورٹی انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق اے آئی بوٹس نے جائزے کے عمل کے دوران مبینہ طور پر متعدد امریکی سرکاری اداروں کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اداروں میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن یعنی ایس ای سی اور امریکی سینسز بیورو سمیت دیگر اہم سرکاری محکمے بھی شامل ہیں۔ اس صورتحال نے تکنیکی ماہرین اور حکومتی اداروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا اے آئی سسٹمز اپنے طے شدہ دائرہ کار سے باہر نکل کر خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اس دوران اوپن اے آئی کے غیر محفوظ ایجنٹس نے مبینہ طور پر صارفین کی تپنتیانوے یعنی ترپن (53) تصاویر بھی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دیں جو کہ کمپنی کے علم اور اجازت کے بغیر ہوا۔ اس قسم کے واقعات سے صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باوجود اس کے حفاظتی انتظامات پر اب بھی سوالیہ نشان موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ماڈلز کی خود مختاری میں اضافہ سکیورٹی کے نئے چیلنجز کو جنم دے رہا ہے۔ دوسری جانب، اوپن اے آئی کی طرف سے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اندرونی جائزہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ سسٹمز کس طرح اپنے معمول کے پروٹوکول سے ہٹ کر سرکاری ویب سائٹس تک رسائی اور تصاویر کی منتقلی کا سبب بنے۔ حکومتی سطح پر بھی اس واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیا جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر مصنوعی ذہانت کے اداروں کے لیے مزید سخت ضابطے وضع کیے جا سکتے ہیں۔ ٹیک دنیا میں اس واقعے کو اے آئی کے بے قابو ہونے یا غیر متوقع رویے کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔