LIVE
Loading Breaking News...

روس کے یوکرین پر حملے، اسٹیল پلانٹ بند

News Image
روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک کی سب سے بڑی اسٹیল ساز کمپنی نے اپنی پیداواری سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف شہروں اور اہم تنصیبات پر حملوں میں ایک بار پھر بڑی شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ جنگ کے موجودہ حالات اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر یوکرین کے اندرونی حصوں میں شدید نوعیت کے فضائی حملے کیے گئے ہیں، جس سے شہری ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ان حالیہ حملوں کے بعد پورے ملک میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے اور دفاعی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ حملوں کے اس تازہ سلسلے کا براہ راست اثر یوکرین کی معیشت اور صنعتی شعبے پر پڑا ہے، جو پہلے ہی جنگ کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں، یوکرین کی سب سے بڑی اسٹیل ساز کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ سکیورٹی کے انتہائی خدشات اور ملازمین کی جانوں کے تحفظ کے لیے انہوں نے اپنے تمام پیداواری یونٹس میں کام عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ اسٹیل کمپنی کے انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فیکٹری کو چلانا ناممکن ہو چکا ہے کیونکہ مسلسل ہونے والے میزائل اور ڈرون حملے صنعتی تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف کمپنی بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا دھماکہ ہے کیونکہ یہ ادارہ یوکرین کی برآمدات اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، روس اور یوکرین کے درمیان جاری یہ تنازع اب طویل مدتی معاشی اور صنعتی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ صنعتی پیداوار کے رکنے سے یوکرین کی مالیاتی پوزیشن مزید کمزور ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہریوں کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی برادری ایک بار پھر فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ مزید انسانی اور معاشی نقصان کو روکا جا سکے، تاہم زمینی حقائق تحال کشیدہ اور محاذ آرائی پر مبنی ہیں۔