Technology
اوپن اے آئی کے پروڈکٹ مینیجر کا چیٹ جی پی ٹی پراپٹ
اوپن اے آئی کے ایک پروڈکٹ مینیجر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اکثر چیٹ جی پی ٹی سے کہتے ہیں کہ 'مجھے متاثر کرو'۔ اس انوکھے اندازِ گفتگو سے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو نئے طریقوں سے جانچا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا بھر میں معروف ادارے اوپن اے آئی کے ایک پروڈکٹ مینیجر نے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ اور انوکھے طریقہ کار کا انکشاف کیا ہے۔ عام طور پر لوگ چیٹ جی پی ٹی سے مضامین لکھنے، کوڈنگ کرنے یا معلوماتی سوالات پوچھنے کے لیے مخصوص ہدایات یا پراپٹس کا استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کے برعکس یہ ماہر اس سے ایک ایسا مختصر جملہ کہتے ہیں جو اے آئی کو حیران کن اور تخلیقی جوابات دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ان کا یہ پسندیدہ پراپٹ 'مجھے متاثر کرو' (Impress me) ہے۔
اس منفرد حکمت عملی کا مقصد روایتی اور عام قسم کے جوابات سے جان چھڑانا ہے۔ جب کسی صارف کی طرف سے چیٹ جی پی ٹِی کو کوئی غیر روایتی اور کھلا ہوا چیلنج دیا جاتا ہے، تو نظام اپنے اندر موجود وسیع تر ڈیٹا اور تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے نت نئے موضوعات، خیالات یا کہانیاں سامنے لاتا ہے جن کی عام طور پر توقع نہیں کی جاتی۔ اس سے نہ صرف مصنوعی ذہانت کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ صارفین کو بھی ایسے مفید مشورے اور خیالات مل جاتے ہیں جو ان کے سوچنے کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بہترین نتائج حاصل کرنے کا دارمدار اس بات پر ہے کہ آپ اس سے کس طرح کا سوال یا ہدایات پوچھتے ہیں۔ اس انوکھے پراپٹ کے ذریعے اوپن اے آئی کے ملازم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی محض ایک سرچ انجن نہیں بلکہ ایک تخلیقی ساتھی بھی ہے جو صحیح سمت ملنے پر حیرت انگیز صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس مشورے کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے اور عام صارفین بھی اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی کے ساتھ اس قسم کے تخلیقی تجربات مزید عام ہوں گے۔ جیسے جیسے چیٹ جی پی ٹی اور دیگر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز جدید تر ہوتے جا رہے ہیں، ان سے کام لینے کے طریقے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ 'مجھے متاثر کرو' جیسے پراپٹس دراصل انسان اور مشین کے درمیان تعلق کو مزید بہتر بنانے اور بوریت کو ختم کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں۔