LIVE
Loading Breaking News...

پاک افغان تعلقات میں کشیدگی اور حالیہ حملے

News Image
پاکستان نے افغانستان کے اندر نئے فضائی حملے کیے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعات تازہ ہو گئے ہیں۔ اس کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق مطالبات اور سکیورٹی خدشات شامل ہیں۔
پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے ہیں، جس کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق پاک افغان سرحد پر بار بار ہونے والا یہ تشدد کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط پیچیدہ سکیورٹی مسائل اور باہمی تنازعات کارفرما ہیں۔ اسلام آباد کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف تخریب کاری اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب کابل حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل ترین سرحد پر باڑ لگانے اور سرحدی انتظام کے معاملات پر بھی طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا ہے۔ حالیہ حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دونوں حکومتوں کے مابین سکیورٹی کے امور پر پائیدار مفاہمت اور اعتماد کا فقدان بدستور برقرار ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس تنازع کے نتیجے میں نہ صرف دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں بلکہ سرحد کے دونوں جانب آباد عام شہریوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ سرحدی تجارت، جو کہ دونوں معیشتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، ان جھڑپوں اور کشیدگی کی وجہ سے بار بار معطل ہو جاتی ہے، جس سے تاجروں اور عام عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خطے کے ماہرین کا اس بات پر اصرار ہے کہ عارضی فوجی کارروائیوں یا فضائی حملوں سے اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالنا ناممکن ہے۔ اس نازک صورتحال سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو سفارتی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا، تاکہ دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے نمٹا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔