LIVE
Loading Breaking News...

حماس کا بورڈ آف پیس پر غزہ میں یو این آر ڈبلیو اے سے تعاون نہ کرنے پر تنقید

News Image
حماس نے غزہ میں امدادی سرگرمیوں سے فلسطینی پناہ گزینوں کی ریلیف ایجنسی کو خارج کرنے پر بورڈ آف پیس کو کڑے ہاتھوں لیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ قدم براہ راست اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت کے مترادف ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے حالیہ دنوں میں 'بورڈ آف پیس' کی جانب سے غزہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ریجنل ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے ساتھ تعاون سے انکار کرنے کے فیصلے پر سخت غصے اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حماس نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے کو امدادی کارروائیوں سے دور رکھنا دراصل قابض اسرائیلی ریاست کی متعصبانہ اور تباہ کن پالیسیوں کے ساتھ کھلم کھلا ہم آہنگی کے مترادف ہے۔ تنظیم کے مطابق اس طرح کے فیصلوں سے غزہ کے محاصرہ زدہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا جو پہلے ہی شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود اور بنیادی حقوق کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بین الاقوامی ادارے کو نظرانداز کرنے یا اس کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی ہر کوشش کا مقصد لاکھوں فلسطینیوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا اور ان کے حقِ واپسی کو متنازع بنانا ہے۔ حماس نے عالمی برادری اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس من مانے اور جانبدارانہ فیصلے کا فوری نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی جاری رہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب پورا خطہ شدید سردی، خوراک کی کمی اور ادویات کی قلت سے دوچار ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کے مختلف حلقوں نے بھی بورڈ آف پیس کے اس متنازع فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے جیسے مستند ادارے کو بائی پاس کرنے سے زمینی سطح پر امدادی کارروائیاں سست پڑ سکتی ہیں اور پہلے سے بگڑی ہوئی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ حماس نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور امن کی بحالی کی تمام تر کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔ تنظیم نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر کیے جانے والے فیصلوں کو سیاسی تنازعات سے بالاتر رکھیں اور غزہ کے مظلوم عوام کی زندگیوں کو داؤ پر نہ لگائیں۔