World
سعودی وزیر خارجہ کا یو این جی اے میں ایران اور حوثیوں پر کڑا تنقید
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے خطے میں ایران کے جارحانہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے یمن میں حوثی ملیشیا کے حملوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری سے فوری اور موثر اقدامات کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران سعودی عرب نے ایک بار پھر خطے کی سیکیورٹی کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں ایران پر براہ راست الزام عائد کیا کہ وہ خطے کے اندر مختلف ممالک پر کھلی اور مسلسل جارحیت میں ملوث ہے جس سے علاقائی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران کی جانب سے تخریب کاری کی کارروائیاں اور مداخلت اب ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں، اور بین الاقوامی برادری کو اس رویے کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔
خطاب کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے یمن کے امور پر بھی تفصیل سے بات کی اور حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے پرتشدد حملوں کی شدید ترین مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا نہ صرف یمن کے امن کو تباہ کر رہی ہے بلکہ سعودی عرب سمیت ہمسایہ ممالک کی شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو بھی مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کی جارحیت کو لگام دینے اور یمن میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عملی اور دوٹوک اقدامات اٹھائے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے。
سعودی عرب کا یہ سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن اس کے باوجود سیکیورٹی کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔ ریاض حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ارضی سالمیت اور شہریوں کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا بھرپور حق محفوظ رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اس مؤقف کے اظہار کا مقصد عالمی طاقتوں کی توجہ مشرق وسطیٰ کے نازک حالات اور ایران کے مبینہ مداخلت پسندانہ کردار کی طرف مبذول کرانا ہے، تاکہ خطے میں کشمکش کو کم کرنے کے لیے اجتماعی دباؤ بڑھایا جا سکے۔