LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت سے مذاکرات کی پیشکش

News Image
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مردان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی مسائل کو باہمی افہم و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مردان میں منعقدہ ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ یہ پیشکش پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسلام آباد کی طرف نکالے جانے والے متوقع مارچ کو مؤخر کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ مردان میں کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی حالات میں تناؤ کو مزید بڑھانے کے بجائے تمام اہم امور کو باہمی افہم و تفہیم اور جمہوری اصولوں کے دائرہ کار میں رہ کر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی کمیٹی کی مشاورت اور منظوری کے بعد ہی حکومت کو ایک معینہ موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاسی بے یقینی کو ختم کیا جا سکے۔ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ سے قانون کی بالا دستی اور آئین کے احترام پر یقین رکھتی ہے، اور ملک کو اس وقت شدید معاشی و سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو تمام بنیادی مطالبات پر میز پر بیٹھ کر بات چیت کی جا سکتی ہے کیونکہ تصادم کی پالیسی سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، کے پی کے وزیراعلیٰ کی جانب سے یہ بیان وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ جلسے کے شرکاء نے وزیراعلیٰ کے اس مؤقف کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے ملک میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔