LIVE
Loading Breaking News...

نقیب اللہ محسود قتل کیس میں اہم فیصلہ، پولیس اہلکار بری

News Image
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں ایس ایچ او سمیت سات مفرور پولیس اہلکاروں کو عدم شبوت کی بنیاد پر بری کر دیا۔ اس سے قبل سابق ایس ایس پی راؤ انوار سمیت اٹھارہ ملزمان کو بھی گذشتہ سماعتوں میں بری کیا جا چکا ہے۔
کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انتہائی حساس اور توجہ کا مرکز بننے والے نقیب اللہ محسود قتل کیس کا ایک اور فیصلہ سناتے ہوئے ایس ایچ او سمیت سات مفرور پولیس اہلکاروں کو عدم شبوت کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ان پولیس اہلکاروں نے عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کیا تھا، جس کے بعد عدالتی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سابق ایس ایس پی راؤ انوار سمیت اٹھارہ دیگر ملزمان کو بھی مقدمے کی ابتدائی سماعتوں کے دوران بری کیا جا چکا ہے۔ نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018ء میں کراچی کے علاقے میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں ایک جعلی پولیس مقابلہ قرار دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاجی لہر دوڑ گئی تھی اور سول سوسائٹی سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے انصاف کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت کے ایس ایس پی راؤ انوار اور ان کی ٹیم پر سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے اور طویل عرصے تک یہ مقدمہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں میں رہا۔ عدالت کی جانب سے اس کیس میں نامزد ملزمان کی بریت پر مختلف حلقوں کی طرف سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئے، جس کی وجہ سے عدالت کے پاس ملزمان کو شک کا فائدہ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ خاندان اور انصاف کے متلاشی افراد میں ایک بار پھر قانونی جنگ اور اس کے نتائج کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن اور صفائی کے وکلاء نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے، تاہم جج نے شواہد کی کمی کی بنا پر ملزمان کی رہائش اور سزاؤں سے متعلق حتمی فیصلہ صادر کیا۔ اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے سے پاکستان کے عدالتی اور پولیس نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر ایک بار پھر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ایسے سانحات کی روک تھام کی جا سکے اور حقیقی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔