Politics
محسن نقوی کی کے پی پولیس قانون اور اراکین اسمبلی کی گرفتاری کے طریقہ کار پر تنقید
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کیے جانے والے اس مجوزہ پولیس قانون کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت قانون سازوں کی گرفتاری میں اسپیکر کا کردار لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسو نیوز اردو) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں لائے جانے والے اس نئے اور متنازعہ مجوزہ پولیس قانون پر شدید تنقید کی ہے جس کے تحت صوبائی قانون سازوں یا اراکینِ اسمبلی (ایم پی اے) کی گرفتاری کے لیے صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کا کردار لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور اس طرح کے خصوصی استثنائی قوانین سے انصاف کے نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے قانون سازی کے اس طریقہ کار کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات محدود ہوں گے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون سازوں کے تحفظ اور ان کے استحقاق کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضابطہ کار مرتب کیا گیا ہے تاکہ سیاسی بنیادوں پر ہونے والی ممکنہ گرفتاریوں کو روکا جا سکے۔ تاہم وفاقی سطح پر اس بل کو لے کر سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور مختلف سیاسی شخصیات اس پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں وفاقی وزیر داخلہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکز اور صوبے کے درمیان پہلے ہی مختلف امور پر سیاسی رسہ کشی جاری ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق اس مجوزہ قانون کے نفاذ کے بعد وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اختیارات کے حوالے سے قانونی تنازعات پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قانون پر اسمبلی کے اندر اور باہر شدید بحث متوقع ہے کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اس شے کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں جو اراکین اسمبلی کو گرفتاری سے بچانے کے لیے اسپیکر کے کردار کو مشروط کرتی ہے۔