Pakistan
اے ٹی سی کا اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو توہین عدالت کا نوٹس
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے کیس میں وکالت نامہ جمع نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ وکالت نامہ ہر ملزم کا بنیادی حق ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالنا قانون کے خلاف ہے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر و ساتھی وکیل ہادی علی چٹھہ سے متعلق ایک اہم کیس کی سماعت کے دوران سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے یہ قدم جیل حکام کی جانب سے وکالت نامے کی فراہمی میں مبینہ رکاوٹ اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر اٹھایا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم کو اپنے دفاع کے لیے وکیل مقرر کرنے اور وکالت نامے پر دستخط کا بنیادی حق حاصل ہے اور اس حق سے محروم کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے جج طاہر عباس نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود جیل حکام کی طرف سے مناسب تعاون فراہم نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کے تحت ہر زیر حراست شخص کو قانونی معاونت حاصل کرنے کا حق ہے، اور اس عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ کیس کی مزید سماعت منگل کے روز تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے، جس میں جیل حکام سے اس معاملے پر تفصیلی جواب طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ اس کیس میں سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری اور دیگر سینئر وکلاء بھی پیش ہوئے اور انہوں نے جیل انتظامیہ کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ مؤکلین تک رسائی اور قانونی دستاویزات پر دستخط کے حصول میں بلاجواز تاخیر کی جا رہی ہے، جو عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ نوٹس اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عدلیہ زیر حراست افراد کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے۔
منگل کے روز ہونے والی آئندہ سماعت میں اس بات کا فیصلہ متوقع ہے کہ جیل انتظامیہ اس توہین عدالت کے نوٹس کا کیا جواب دیتی ہے اور آیا عدالت اس معاملے پر مزید کیا سخت احکامات جاری کرتی ہے۔ یہ مقدمہ ملک بھر میں قانونی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں وکلاء کے حقوق اور جیل اصلاحات کے حوالے سے بحث کا سلسلہ جاری ہے۔