LIVE
Loading Breaking News...

علیمہ خان کی تھری ایم پی او حراست، لاہور ہائی کورٹ کا رپورٹ طلب کرنا

News Image
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی بہن علیمہ خان کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حراست کا حکم غیر قانونی ہے اور حقائق کے برعکس جاری کیا گیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی تھری ایم پی او (مفاد عامہ کی دیکھ بھال کے آرڈیننس) کے تحت حراست کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یہ قانونی کارروائی اس وقت سامنے آئی جب علیمہ خان کے صاحبزادے کی جانب سے اپنی والدہ کی غیر قانونی نظر بندی کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت میں پٹیشن دائر کی گئی۔ دائر کردہ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حراست کا یہ اقدام سراسر غیر قانونی اور حقائق کے منافی ہے۔ سماعت کے دوران وکیل صفائی نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ قانون کے غلط استعمال کے ذریعے سیاسی بنیادوں پر گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنا ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس نظر بندی کے احکامات کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔ اس کے علاوہ، خاندان کے افراد کی جانب سے عدالت میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ علیمہ خان کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور جیل یا حراست کے دوران انہیں ضروری ادویات اور ذاتی استعمال کے کپڑے تک فراہم کرنے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے میں جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کریں تاکہ آئندہ کی قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا جا سکے اور حقائق کو واضح کیا جا सके۔ سیاسی حلقوں اور تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے اس پیش رفت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ قانونی ماہرین اس کیس کی سماعت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔