Politics
کے پی میں گورنر راج کا اشارہ، فیصل کریم کنڈی کا بیان
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ آئین کے تحت صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی پوری گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے یہ بیان پاکستان تحریک انصاف کے ستائیس ستمبر کے متوقع لانگ مارچ کے تناظر میں دیا۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کی شقوں کے مطابق صوبے میں گورنر راج کا نفاذ بالکل ممکن ہے اور قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کی طرف ایک بار پھر لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت تمام آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی تیاریوں پر بات کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس ستائیس ستمبر کے متوقع لانگ مارچ کے لیے کسی قسم کی کوئی سنجیدہ تیاری موجود نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے اپنے ارکان اور رہنما اب اس احتجاجی دنگل سے نکلنے کے لیے محفوظ راستے تلاش کر رہے ہیں کیونکہ وہ قیادت کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو ترقیاتی عمل سے دور رکھنے کے لیے دھرنوں کی سیاست کی جا رہی ہے جسے اب عوام مزید برداشت نہیں کریں گے۔
گورنر کے پی نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کو عوامی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ انتشار پھیلانے والی سرگرمیوں پر۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر آئین کی پاسداری سب کی اولین ذمہ داری ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیاسی حلقوں میں گورنر فیصل کریم کنڈی کے اس بیان کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں صوبے کی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔