LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم کا یو این میں خطاب: خلیجی آبی گزرگاہیں اور پاک بھارت پانی کا تنازع

News Image
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی آبی گزرگاہیں عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں اور انہیں ہر صورت کھلا رہنا چاہئے۔ انہوں نے اس موقع پر بھارت کو بھی واضح پیغام دیا کہ سندھ طاس کے پانی کو موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی کارروائی سمجھا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ خلیجی خطے میں واقع اہم آبی گزرگاہیں عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں اور تجارت کے اس مسلسل بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ان کا کھلا رہنا ناگزیر ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے بحری راستے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی سلامتی اور روانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ خطاب کے دوران وزیراعظم نے جنوبی ایشیا کے سلامتی کے امور اور پاک بھارت تعلقات پر بھی روشنی ڈالی اور بھارت کو نہایت سخت الفاظ میں خبردار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی اور دریائے سندھ کے بہاؤ کو موڑنے کی کسی بھی یکطرفہ کوشش کو پاکستان کے خلاف جنگی کارروائی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نئی دہلی کو اس معاملے میں کسی قسم کی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ پاکستان اپنی آبی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا اور اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی وفد نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بھارت کی جانب سے عائد کردہ بے بنیاد دہشت گردی کے الزامات کا بھی منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ اسلام آباد خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ وزیراعظم نے عالمی ادارے پر زور دیا کہ وہ خطے میں دیرپا امن کے قیام اور جموں و کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تاکہ جنوبی ایشیا کے کروڑوں عوام کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے اور جنگ کے بادل چھٹ سکیں۔