LIVE
Loading Breaking News...

اسحاق ڈار کا ای سی او اجلاس میں افغانستان میں دہشتگردی کے خاتمے کا مطالبہ

News Image
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی سرزمین سے لاحق دہشتگردی کے خطرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے خطے بالخصوص مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے حالیہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خطے کی پائیدار ترقی اور امن کے لیے افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات کا جڑ سے خاتمہ ناگزیر ہے۔ اجلاس کے دوران انہوں نے خطے بالخصوص مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ سکیورٹی صورتحال پر بھی کھل کر بات کی اور عالمی برادری کی توجہ اس نازک مسئلے کی طرف مبذول کرائی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دہشتگردی ایک بین الاقوامی ناسور ہے جس سے نمٹنے کے لیے تمام ہمسایہ ممالک کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام اور بین الاقوامی سطح پر اس بات پر بارہا تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ کالعدم تنظیموں اور دہشتگرد عناصر کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ سمیت مختلف فورمز پر بھی اس امر کی نشان دہی کی جا چکی ہے کہ افغان صوبوں میں دہشتگردی کے تربیتی مراکز موجود ہیں جو پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے میں ملوث ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان عبوری حکومت کو اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہوگی۔ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم نے اقتصادی تعاون تنظیم کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں سابق سفارتکار اسد مجید خان کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ای سی او کے رکن ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی اور ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ خطے کے عوام کی تقدیر بدلی جا سکے جب تک سکیورٹی کے مسائل حل نہیں ہوتے، اقتصادی ترقی کے اہداف کا حصول مشکل رہے گا۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ علاقائی روابط اور باہمی تعاون کے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ دہشتگردی کے قلع قمع کے لیے تمام فریقین اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔