World
سعودی اتحاد کا حوثی میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ
سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائلوں اور ڈرون حملوں کو کامیابی سے فضا میں تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور خطے میں امن کی بحالی پر زور دیا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والے عسکری اتحاد نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت کے مختلف حصوں کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز کو فضا میں ہی کامیابی سے روکا اور تباہ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کے جنوبی شہر خمیس مشیط اور دیگر علاقوں پر کیے گئے تھے جنہیں فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ سعودی اتحاد کے حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثی باغیوں کی طرف سے سرحد پار حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ ان جارحانہ کارروائیوں کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی حوثی ملیشیا کے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سلامتی کونسل کے اراکین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے کے امن کو خراب کرتے ہیں بلکہ سیاسی مذاکرات کے عمل کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ کونسل نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کو کم کریں اور تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کا ساتھ دیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کے مذہبی حلقوں اور علماء کی طرف سے بھی اس صورتحال پر ردعمل سامنے آیا ہے جہاں ملک اور قوم کے دفاع کے لیے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سعودی اتحاد کی دفاعی صلاحیتیں حوثی ملیشیا کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، تاہم خطے میں دیرپا امن کے حصول کے لیے ایک جامع سیاسی حل ناگزیر ہے۔