World
کرسٹا پائیک سزائے موت ٹینیسی امریکہ خبریں
ٹیسنی کی ایک عدالت میں سنہ 1995 کے قتل کیس میں سزا پانے والی کرسٹا پائیک کی سزائے موت کے خلاف وکلاء نے اپیل دائر کی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ اس وقت کی کم عمری اور حالات کو دیکھتے ہوئے ان کی سزا میں تخفیف کی جانی چاہیے۔
امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں ایک ایسا قانونی معاملہ سامنے آیا ہے جس نے ملک بھر میں بحث مباحثے کو جنم دے دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کرسٹا پائیک نامی خاتون کو سزائے موت دیے جانے کا امکان ہے جو کہ گزشتہ دو سو سالوں میں ریاست ٹینیسی میں کسی بھی خاتون کو دی جانے والی پہلی پھانسی ہوگی۔ اس خبر نے انسانی حقوق کے اداروں اور قانونی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، جہاں اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
کرسٹا پائیک کو سنہ 1995 میں اپنے ہی ایک ساتھی طالب علم کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس وقت اس واقعے نے شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا اور عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد انہیں موت کی سزا سنائی تھی۔ تاہم، اب ان کے دفاعی وکلاء نے موقف اختیار کیا ہے کہ کرسٹا پائیک خود بھی بعض حالات کا شکار تھیں اور انہیں رحم کی اپیل کا حق ملنا چاہیے۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ اگر یہی جرم آج کے دور میں سرزد ہوتا تو شاید حالات اور قانونی تشریح مختلف ہوتی، اور موجودہ عدالتی معیارات کے تحت شاید انہیں سزائے موت نہ سنائی جاتی۔ وکلاء کی جانب سے یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اس وقت کرسٹا کی عمر کم تھی اور وہ ذہنی تناؤ یا دیگر معاشرتی دباؤ کا شکار تھیں، جنہیں اس وقت کے مقدمے میں درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔
امریکہ میں سزائے موت کے قوانین اور خواتین کو دی جانے والی سزاؤں پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹینیسی کی عدالت یا گورنر کی جانب سے اس رحم کی اپیل پر کیا فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔ کیا کرسٹا پائیک کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے گا یا تاریخ میں پہلی بار اتنے طویل عرصے بعد ٹینیسی میں کسی خاتون کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔