World
چینی نوجوانوں میں مقبول ہونے والے پروفیسر اور ان کی ذہنی بے چینی کی کہانی
چین میں تیزی سے ترقی کرتی معیشت اور ٹیکنالوجی کے درمیان نوجوان نسل شدید ذہنی تناؤ اور بے چینی کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نوجوانوں کی ان ہی پوشیدہ تشویش اور مسائل پر کھل کر بات کر رہے ہیں جن کی وجہ سے وہ ان میں بے حد مقبول ہو گئے ہیں۔
چین میں اقتصادی اور تکنیکی ترقی کی رفتار بلاشبہ تیز ترین رہی ہے، لیکن اس تیز رفتار ترقی نے ملک کی نوجوان نسل کے لیے کئی طرح کے نئے نفسیاتی اور معاشرتی مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں۔ موجودہ دور کے چینی نوجوان، جنہیں جنریشن زی کہا جاتا ہے، شدید مسابقت، روزگار کے محدود مواقع اور مستقبل کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں ایک ایسے یونیورسٹی پروفیسر کا ابھرنا جو نوجوانوں کی اس اندرونی بے چینی اور دباؤ کو گہرائی سے سمجھتے ہیں، ایک اہم سماجی موڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پروفیسر نوجوانوں کے ان پوشیدہ مسائل پر کھل کر بات کر رہے ہیں جن کا سامنا وہ روزمرہ کی زندگی میں کرتے ہیں۔
نوجوانوں کی طرف سے اس پروفیسر کو ملنے والی پذیرائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ چینی معاشرے میں اب نوجوان نسل اپنے جذبات اور ذہنی دباؤ کو چھپانے کے بجائے ان کا اظہار چاہتی ہے۔ تیز رفتار صنعتی اور معاشی ترقی نے جہاں مادی خوشحالی کے دروازے کھولے ہیں، وہیں دوسری طرف کام کے اوقات کی طوالت اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے نوجوانوں پر شدید نفسیاتی بوجھ ڈال دیا ہے۔ مذکورہ پروفیسر کی جانب سے ان مسائل پر ہمدردانہ رویہ اپنانے اور ان کا سائنسی و سماجی تجزیہ کرنے کے انداز نے طلباء اور نوجوانوں کو ایک نئی ذہنی سکون اور تقویت فراہم کی ہے۔
ماہرین کے مطابق، چین کے نوجوان روایتی اقدار اور جدید دنیا کی توقعات کے درمیان ایک کٹھن توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں، تعلیمی اداروں اور اساتذہ کا کردار صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رہا بلکہ اب انہیں نوجوانوں کے لیے ایک ذہنی سہارا بھی بننا پڑ رہا ہے۔ مذکورہ پروفیسر کی مقبولیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ معاشرتی ترقی کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدہ لینا اور ان پر کھل کر مکالمہ کرنا کتنا ضروری ہو چکا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ رجحان چینی معاشرے میں نفسیاتی صحت کے حوالے سے پالیسیوں اور رویوں میں مزید تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔