Politics
ٹرمپ کا بائیڈن دور کے فیول اکانومی قوانین میں تبدیلی کا اعلان
امریکی صدر نے بائیڈن دور کے کار فیول اکانومی کے قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کرنے والے مبینہ مینڈیٹ کا خاتمہ کرنا ہے۔
امریکی صدر نے اپنے ایک اہم فیصلے میں سابق صدر جو بائیڈن کے دور کے کار فیول اکانومی کے سخت قوانین کو ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت اس مبینہ 'ای وی مینڈیٹ' کا خاتمہ کیا جائے گا جو امریکی صارفین کو روایتی گاڑیوں کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی خریداری کی طرف مائل کرتا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس پالیسی تبدیلی سے امریکی آٹوموبائل انڈسٹری پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور یہ فیصلہ روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کے مینوفیکچررز کے لیے ایک بڑی راحت ثابت ہو سکتا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے دوران ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے کاروں کے اخراج اور فیول اکانومی کے حوالے سے سخت معیارات نافذ کیے گئے تھے تاکہ روایتی گاڑیوں کی پیداوار کو کم اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو تیزی سے بڑھایا جا سکے۔ تاہم نئی پالیسی کے تحت ان پابندیوں میں نرمی لائی جائے گی جس سے نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں پر اثر پڑے گا بلکہ صارفین کے پاس اپنی پسند کی گاڑی کے انتخاب کے لیے زیادہ اختیارات بھی ہوں گے۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے جہاں ایک طرف انڈسٹری کے حامی اسے معیشت اور صارفین کی آزادی کے لیے بہتر قرار دے رہے ہیں، وہیں ماحولیاتی تنظیموں کی طرف سے اس پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ اور اس کے حتمی اثرات کا مزید جائزہ لیا جائے گا کیونکہ آٹوموبائل سیکٹر پہلے ہی بڑی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے۔