World
یورپ میں نو عمر قاتلوں کی بھرتی اور فاکس ٹروٹ نیٹ ورک کا انکشاف
یورپ بھر میں قتل کی وارداتوں کے لیے کم عمر نو عمر لڑکوں کو کرائے کے قاتل کے طور پر بھرتی کیا جا رہا ہے۔ فاکس ٹروٹ نیٹ ورک نامی تنظیم اس طرح کے خطرناک جرائم میں مبینہ طور پر ملوث بتائی جاتی ہے۔
یورپ میں جرائم کی دنیا سے ایک انتہائی تشویشناک اور ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے جہاں مبینہ طور پر نو عمر لڑکوں کو کرائے کے قاتل کے طور پر بھرتی کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کم عمر لڑکے مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے لیے کام کرتے ہیں اور انہیں یورپ کے مختلف حصوں میں قتل کی وارداتیں انجام دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس رجحان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ نوعمر افراد کی اس طرح کی جرائم میں شمولیت تفتیش کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
اس پورے نیٹ ورک کے پیچھے ایک خطرناک مجرمانہ تنظیم کا نام لیا جا رہا ہے جسے فاکس ٹروٹ نیٹ ورک کہا جاتا ہے۔ ابتدائی رپورٹس اور تحقیقی معلومات کے مطابق یہ نیٹ ورک 'تشدد بطور خدمات' (violence-as-a-service) کے حربے استعمال کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پیسے کے بدلے کسی کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مخصوص نیٹ ورک اکیلے ہی یورپ بھر میں تقریباً 35 سے زائد قتل کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے، جس سے اس کی سفاکیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مجرمانہ گروہ اب پولیس کی گرفت سے بچنے کے لیے انتہائی چالاک حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ وہ کم عمر اور نابالغ بچوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے یا کم سزائیں ہوں۔ ایسے نو عمر قاتلوں کو سوشل میڈیا اور دیگر خفیہ طریقوں سے ورغلایا جاتا ہے، جس سے معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔
یورپی سکیورٹی ادارے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون بڑھا رہے ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے سرغنوں تک پہنچا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے منظم جرائم کو ختم کرنے کے لیے صرف نچلی سطح کے کارندوں کو پکڑنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس پورے ڈھانچے اور مالیاتی ذرائع کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے جو ان نوعمر بچوں کو خطرناک جرائم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔