World
روس کا یورپ پر یوکرین مذاکرات روکنے کا الزام اور تازہ حملے
ماسکو نے الزام عائد کیا ہے کہ یورپی ممالک یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات کی راہ میں جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دونوں اطراف سے فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
ماسکو: روسی حکام نے ایک بار پھر مغربی ممالک بالخصوص یورپی یونین پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین کے ساتھ تنازع کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے ہونے والی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ کریملن کے مطابق یورپی حکومتیں یوکرین کو جنگ بندی کی میز پر آنے سے روک رہی ہیں اور مسلسل عسکری امداد فراہم کر کے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھاوا دے رہی ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کا موقف ہے کہ اس طرزِ عمل کی وجہ سے خطے میں دیرپا امن کا قیام ناممکن ہوتا جا رہا ہے اور سفارتی دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس سیاسی اور سفارتی ڈیڈ لاک کے دوران میدان جنگ میں دونوں اطراف سے حملوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوکرین کے مختلف شہروں میں فضائی حملوں اور گولہ باری کا تبادلہ جاری ہے جس سے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور عام شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور سخت موقف مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ بات چیت ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس نظر آ رہے ہیں۔ روس اور یوکرین کے مابین جاری اس طویل تنازع نے نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی معیشت اور سکیورٹی کو شدید متاثر کیا ہے، اور فی الحال کسی بھی فریق کی جانب سے لچک دکھائے جانے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔