World
دہلی یونیورسٹی طلباء کا خواتین کے تحفظ کے لیے احتجاج
دہلی یونیورسٹی کے طلبا و طالبات نے ایک پارک میں پیش آنے والے حملے کے واقعے کے بعد خواتین کے تحفظ کے لیے بڑا احتجاجی مارچ نکالا۔ طلباء نے حکام سے مطالبات کیے کہ تعلیمی اداروں کے گردونواح اور عوامی مقامات پر سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے۔
نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کے طلباء نے حال ہی میں ایک مقامی پارک میں پیش آنے والے افسوسناک حملے کے واقعے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد طلباء اور بالخصوص طالبات میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر یونیورسٹی کے احاطے اور قریبی علاقوں میں ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں خواتین کو درپیش سیکیورٹی کے مسائل سنگین ہوتے جا رہے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے مجرموں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
احتجاجی مارچ کے دوران طلبا و طالبات نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر خواتین کے تحفظ اور قانون کی سخت عملداری کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے یونیورسٹی انتظامیہ اور مقامی پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں کے اردگرد سیکیورٹی کے انتظامات کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ طالبات بلا خوف و خطر اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات اور پارکس میں سیکیورٹی کی عدم موجودگی مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جس کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔
اس موقع پر طلباء رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کو کٹہرے میں نہیں لایا جاتا اور سیکیورٹی کے پائیدار اقدامات نہیں کیے جاتے، ان کا احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ متاثرہ فریق کو انصاف مل سکے۔
دہلی یونیورسٹی کے اس احتجاج نے ایک بار پھر ملک بھر میں خواتین کے تحفظ کے حساس موضوع کو اجاگر کر دیا ہے۔ سول سوسائٹی اور مختلف طلبا تنظیموں نے بھی اس مارچ کی بھرپور حمایت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مقامات پر خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کو مزید موثر بنایا جائے۔