Pakistan
اسلام آباد ہائی کورٹ کا مسافروں کی آف لوڈنگ پر اہم فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ کسی بھی مسافر کو بغیر کسی ٹھوس قانونی جواز کے ملک سے باہر جانے سے نہ روکا جائے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کے بنیادی سفری حقوق کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسافروں کو ہوائی اڈوں پر بغیر کسی قانونی جواز اور دستاویزی ثبوت کے آف لوڈ کرنے کے عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ شہریوں کو سفر کرنے سے روکنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس حوالے سے من مانے اقدامات کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی شخص کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے ٹھوس قانونی وجوہات کا ہونا ناگزیر ہے۔
عدالت میں اس معاملے کی سماعت کے دوران مختلف درخواست گزاروں کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ مسافروں کو بغیر کسی نوٹس یا واضح وجہ کے امیگریشن کاؤنٹرز پر روکا جاتا ہے جس سے نہ صرف ان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ انہیں شدید ذہنی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکام کی جانب سے اکثر و بیشتر زبانی احکامات یا نامکمل معلومات کی بنیاد پر شہریوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا سٹاپ لسٹ میں شامل کر دیے جاتے ہیں جس کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہوتا۔
فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور امیگریشن حکام کو اپنے اختیارات کا استعمال ضابطے کے مطابق کرنا چاہئے۔ کسی بھی شہری کو محض شک کی بنیاد پر بیرون ملک جانے سے روکنے کا کوئی قانون اجازت نہیں دیتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی مسافر کے خلاف کوئی قانونی تحقیقات یا مقدمہ زیر التواء ہے تو اس کا باقاعدہ ریکارڈ اور قانونی حکم نامہ ہونا ضروری ہے۔
اس تاریخی حکم کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کو درپیش اس طرح کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور سفر کرنے والے افراد بلا وجہ کی پریشانی سے محفوظ رہ سکیں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو تنبیہ کی ہے کہ اس فیصلے کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے بصورت دیگر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔