LIVE
Loading Breaking News...

نقیب اللہ محسود کیس: سات مزید ملزمان شواہد کی کمی پر بری

News Image
کراچی کی ایک عدالت نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں شواہد نہ ملنے پر مزید سات ملزمان کو بری کر دیا۔ اس سے قبل مرکزی ملزمان کو بھی اس مقدمے میں عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کیا جا چکا ہے۔
کراچی کی ایک عدالت نے شہر کے مشہور نقیب اللہ محسود قتل کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے مزید سات ملزمان کو شواہد کی کمی کے باعث بری کر دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور گواہان کے بیانات کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد سنایا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد عدالت کے پاس ان ملزمان کو رہا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ یاد رہے کہ یہ مقدمہ پاکستان بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جعلی مقابلوں کے خلاف ایک بڑی آواز بن کر ابھرا تھا جس نے ملک کی عدالتی اور انتظامی تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑے۔ نقیب اللہ محسود کو چند سال قبل کراچی میں ایک متنازع پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا اور اس مبینہ پولیس مقابلے کو ایک جعلی واقعہ قرار دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پولیس کے اعلیٰ افسران سمیت کئی اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے اور تحقیقاتی کمیٹیاں بھی بنائی گئی تھیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عدالتی کارروائیوں میں گواہوں کے مکرنے اور شواہد کے فقدان جیسے مسائل سامنے آتے رہے جس کے باعث اس مقدمے کے کئی اہم مراحل میں فیصلے ملزمان کے حق میں جاتے رہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شواہد کی کمی اور تفتیشی خامیوں کی وجہ سے اس نوعیت کے ہائی پروفائل مقدمات میں انصاف کی فراہمی اکثر مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس تازہ ترین فیصلے کے بعد نقیب اللہ محسود کے لواحقین اور انصاف کے متلاشی حلقوں میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے جنہوں نے ایک بار پھر اعلیٰ عدلیہ سے اس معاملے کا نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی یہی مؤقف ہے کہ اس طرح کے سنگین مقدمات میں تفتیش کے معیار کو بہتر بنایا جانا چاہیے تاکہ مجرم قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں اور مظلوم خاندانوں کو بروقت انصاف مل سکے۔