LIVE
Loading Breaking News...

گلابی سکوٹیز کے لیے ڈرائیونگ لائسنس لازمی، شرجیل میمن کا بیان

News Image
صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا ہے کہ خواتین کو پنک سکوٹیاں حاصل کرنے کے لیے باضابطہ ڈرائیونگ لائسنس اور ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کی روڈ سیفٹی کو یقینی بنانا اور انہیں بااختیار بنانا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے ایک اہم پالیسی بیان میں واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے خواتین کو فراہم کی جانے والی 'پنک سکوٹیز' بلاشرائط حاصل نہیں کی جا سکیں گی۔ ان سکوٹیوں کے حصول کے لیے اب ڈرائیونگ لائسنس کا حصول اور باضابطہ ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد سڑکوں پر خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ٹریفک کے اصولوں کی سختی سے پابندی کرانا ہے۔ حکومتِ سندھ کا یہ اقدام خواتین کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں خود مختار بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ کے مطابق، جو خواتین اس اسکیم سے مستفید ہونا چاہتی ہیں، انہیں پہلے ٹریفک قوانین سے آگاہی حاصل کرنا ہوگی اور ڈرائیونگ ٹیسٹ میں اپنی مہارت ثابت کرنا ہوگی۔ اس کڑی شرط سے یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ سکوٹی چلانے والی خواتین سڑکوں پر مکمل طور پر محفوظ رہیں اور کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچ سکیں۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس عمل کو آسان لیکن شفاف بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے اور ان کے لائسنس کے حصول کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اس لازمی شرط کو باآسانی پورا کر سکیں۔ اس پالیسی کو عوامی حلقوں اور بالخصوص خواتین کی طرف سے بے حد سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے روڈ سیفٹی کے ساتھ خواتین کا اعتماد بھی بڑھے گا۔