Health
پارکنسنز کی بیماری: امریکہ میں ایب وی کی دوا تُواپاڈون منظور
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے پارکنسنز کے علاج کے لیے ایب وی کی دوا تُواپاڈون کو باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس نئی دوا سے دنیا بھر میں لاکھوں متاثرہ مریضوں کو طبی امداد اور بہتر علاج کی نئی امید ملی ہے۔
امریکہ کے ادارہ برائے غذا و دوا (ایف ڈی اے) نے معروف دوا ساز کمپنی ایب وی کی نئی دوا 'تُواپاڈون' کو پارکنسنز کی بیماری کے علاج کے لیے باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پارکنسنز ایک ایسی اعصابی خرابی ہے جو انسان کے اعصاب اور حرکات و سکنات کو بری طرح متاثر کرتی ہے، اور اس نئی دوا کی منظوری سے اس مرض کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ ایب وی کمپنی کی جانب سے پیش کی جانے والی اس دوا کا مقصد مریضوں کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنانا اور ان کے پٹھوں کے کھچاؤ اور لرزش کو کنٹرول کرنا ہے۔
تُواپاڈون کو طبی آزمائشوں کے مختلف مراحل سے گزارا گیا ہے، جن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دوا مریضوں کے لیے انتہائی مؤثر اور محفوظ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس دوا کے استعمال سے مریضوں کو چلنے پھرنے اور اپنے روزمرہ کے کام کرنے میں کافی آسانی ہوگی۔ پارکنسنز کے مریضوں کو اکثر اوقات شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے جسم پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ طبی سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ دوا دماغ کے مخصوص حصوں کو متحرک کرتی ہے جو حرکات کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اس منظوری کے بعد دنیا بھر کے ڈاکٹروں اور ماہرینِ صحت کی طرف سے بھی مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس دوا کو عالمی مارکیٹ میں بھی متعارف کروایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مریض اس سے مستفید ہو سکیں۔ ایب وی کمپنی نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مریضوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے اپنی تحقیقات اور کوششیں جاری رکھیں گے۔
پارکنسنز کے مریضوں کے لواحقین اور فلاحی تنظیموں نے بھی اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جدید ادویات کی مارکیٹ میں آمد سے مریضوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ مریض اس دوا کے استعمال سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں تاکہ خوراک اور طریقہ علاج کو مریض کی طبی حالت کے مطابق بہتر بنایا جا سکے۔