Technology
اے آئی کے ذریعے تصاویر نازیبا کرنے کا اسکینڈل، اینڈی برنہم کا ردعمل
برطانوی سیاستدان اینڈی برنہم نے ایک ایسے پیڈوفائل کے واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے جس نے ضمانت پر رہائی کے دوران خواتین اور بچیوں کی تصاویر کو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے نازیبا شکل دی۔ وزیر اعظم نے بھی اس معاملے کے عدالتی اور پولیس جائزے کے مطالبات کی بھرپور تائید کی ہے۔
گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم نے ایک انتہائی پریشان کن اور ہلا دینے والے واقعے پر شدید مذمت کا اظہار کیا ہے، جہاں ایک مجرم نے بار بار ضمانت پر رہا ہونے کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں کی عام تصاویر لیں اور پھر مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انہیں نازیبا تصاویر میں تبدیل کر دیا۔ اس گھناؤنے فعل نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں کہ کس طرح ایک ایسا شخص جو بچوں کے استحصال کی سنگین علامات میں ملوث تھا، بار بار قانون کی گرفت سے بچ کر ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیر اعظم نے بھی متعلقہ اداروں کے نظام اور عدالتی فیصلوں کے جامع جائزے کے مطالبات کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی بالخصوص جنریٹو اے آئی کا غلط استعمال اس قدر خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے کہ اس سے عام شہریوں کی ذاتی زندگی اور وقار کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس نوعیت کے جرائم کے خلاف سخت ترین قوانین اور ان کے فوری نفاذ کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے عناصر قانون کی خامیوں کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
اس کیس نے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومت دونوں کے لیے ایک نیا دردِ سر پیدا کر دیا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اے آئی کے غیر اخلاقی اور مجرمانہ استعمال کو روکا جائے۔ عام شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اب قانون سازی میں مزید سختی لانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس واقعے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مجرم کو عبرت ناک سزا دی جائے اور ان تمام سقم کو دور کیا جائے جن کی وجہ سے وہ بار بار قانون کی گرفت سے بچتا رہا۔