World
خلیجی سلامتی اور عالمی استحکام پر سعودی عرب کا اہم انتباہ
سعودی عرب نے اقوام متحدہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ خلیجی خطے کی سلامتی عالمی اقتصادی اور توانائی کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ مملکت نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سعودی عرب نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ خلیجی خطے کی سلامتی اور عالمی استحکام ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ سعودی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے خطرات سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی رس رسد کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مملکت نے بین الاقوامی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا ادراک کرے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ سعودی نمائندوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ خلیجی گزرگاہوں اور جہاز رانی کو محفوظ بنانا عالمی معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ عالمی پلیٹ فارم پر سعودی عرب کی جانب سے یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں حوثی ملیشیا کی سرگرمیوں اور دیگر تنازعات کی وجہ سے سمندری تجارت اور توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ دنیا کو خلیج میں بحری جہازوں اور تجارتی راستوں کو تحفظ دینے میں ناکامی پر اپنے لائحہ عمل پر نظرثانی کرنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی قسم کی غفلت عالمی سطح پر مہنگائی اور معاشی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ اس اہم سفارتی بیان کا مقصد دنیا بھر کی بڑی طاقتوں کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ خلیج کے امن کو نظر انداز کرنے کی بھاری قیمت پوری دنیا کو چکانا پڑ سکتی ہے۔ سعودی عرب نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور عالمی قوانین کی پاسداری کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے اور عالمی امن کی ضمانت دی جا سکے، جس کے لیے ایک متحد اور مؤثر بین الاقوامی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔