LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر کا امریکا کے ساتھ اسلام آباد MoU پر واپسی کا اظہار

News Image
ایرانی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی طرف واپسی کا خواہاں ہے۔ اس اقدام سے خطے میں سفارتی تعلقات اور استحکام کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔
تہران: ایرانی صدر نے اپنے ایک اہم بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی طرف واپسی کا خواہاں ہے۔ اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی حلقوں کی توجہ مبذول کروا لی ہے کیونکہ اس سے خطے میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی کی امیدیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ بات چیت اور معاہدوں کی پاسداری سے ہی خطے میں امن و امان کی فضا کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب چین نے بھی اس اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے تہران کے مؤقف اور اقدامات کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ایرانی صدر نے چینی حمایت کو سراہتے ہوئے اسے ایک ذمہ دارانہ اور فکر انگیز قدم قرار دیا ہے، جو علاقائی استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر اس مفاہمتی یادداشت پر دوبارہ عمل درآمد شروع ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ خطے کے دیگر ممالک بالخصوص پاکستان بھی اس پیش رفت کو بڑی احتیاط اور امید کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے قبل اسلام آباد اس قسم کے سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے معاہدے عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا زریعہ بن سکتے ہیں۔ تہران کی جانب سے اس خواہش کا اظہار سفارتی محاذ پر ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے جس کے آئندہ دنوں میں مزید گہرے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔