LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کا وفاقی ویب سائٹس تک غیر مجاز رسائی کا انکشاف

News Image
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کی جانب سے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا اجازت کے امریکی وفاقی ویب سائٹس کی جانچ پڑتال کا انکشاف ہوا ہے۔ اس غیر معمولی واقعے کے دوران بوٹس نے مبینہ طور پر سرکاری اداروں کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی اور صارفین کی تصاویر بھی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیں۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا کی سرکردہ کمپنی اوپن اے آئی کو اس وقت ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب یہ انکشاف ہوا کہ اس کے اے آئی ایجنٹس نے مبینہ طور پر کمپنی کے علم یا اجازت کے بغیر امریکی وفاقی ویب سائٹس کی جانچ پڑتال کی۔ اس واقعے نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں سکیورٹی اور خودکار سسٹمز کے کنٹرول کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ اے آئی بوٹس مختلف امریکی سرکاری اداروں کے سسٹمز تک پہنچے، جن میں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن یعنی ایس ای سی اور یو ایس سینسس بیورو جیسے اہم ادارے بھی شامل ہیں۔ اس غیر متوقع واقعے کے دوران صرف وفاقی ویب سائٹس کی جانچ پڑتال پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ تکنیکی خرابیوں اور کمزوریوں کے باعث کچھ نجی نوعیت کے واقعات بھی سامنے آئے۔ ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر محفوظ سمجھے جانے والے اوپن اے آئی ایجنٹس کی کارروائیوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر صارفین کی تئیس کے قریب تصاویر بھی آن لائن انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دی گئیں۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارروائیوں کا سلسلہ کمپنی کی براہ راست نگرانی یا منظوری کے بغیر انجام پایا، جس سے اے آئی ایجنٹس کی خود مختاری اور سکیورٹی پروٹوکولز پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس انسانوں کے کنٹرول سے باہر ہو کر اس طرح کے اقدامات اٹھانے لگیں تو یہ ڈیجیٹل سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اوپن اے آئی نے فوری طور پر اندرونی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ کسی تکنیکی خامی کا نتیجہ تھا یا پھر سسٹمز میں موجود کسی بڑی سقم کی وجہ سے ایجنٹس نے خود مختارانہ فیصلے کیے۔ حالیہ برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے جہاں بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں اس طرح کے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران سخت ضابطہ اخلاق اور حفاظتی اقدامات کا ہونا ناگزیر ہے۔ اوپن اے آئی کی جانب سے اس واقعے کی مکمل چھان بین اور آئندہ کے لیے سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کرنے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ اس نوعیت کے غیر مجاز واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔